انسانی تاریخ کو اگر کسی ایک بنیادی سوال کے گرد پڑھا جائے تو وہ یہ نہیں کہ کائنات کیسے بنی یا قدرت کب قہر بن کر ٹوٹے گی ،
بلکہ یہ کہ حکمرانی کس کا حق ہے اور اقتدار کیسے استعمال کیا جائے۔ یہی سوال انسانی تاریخ میں سب سے زیادہ جانیں لینے والا، تہذیبیں مسمار کرنے والا، اور معاشروں کو تقسیم کرنے والا عنصر رہا ہے۔ ریاست، بادشاہت، سلطنت، اور نظریاتی غلبے کی کشمکش نے قدرتی آفات سے کہیں زیادہ انسانوں کو ہلاک کیا۔
تاہم اسی تسلسل میں انسان نے ایک ارتقائی قدم بھی اٹھایا: شخصی حکومتوں سے نکل کر اداروں کی تشکیل کی، تاکہ طاقت ایک فرد کے بجائے نظام میں تقسیم ہو اور توازن قائم رہے۔ آج کے انسان کو اگر جدید تصور کیا جائے تو وہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے جدید ہے کہ اس نے اپنے حکمران بنانے کے طریقے کو آسان بنایا ہے۔
پوسٹ ماڈرن دور میں اقتدار کی یہ جنگ ایک نئے ہتھیار کے ساتھ سامنے آئی، جسے پوسٹ ٹرُتھ یا پساحقیقت کہتے ہیں۔ اس میں حقیقت کی اہمیت کم ہو جاتی ہے اور بیانیہ سب پر حاوی ہو جاتا ہے۔ جب اقتدار حقیقت کے بجائے بیانیے کے گرد گھومے، تو عوام کے شعور پر قبضہ کر کے سیاسی تقدیس اور نجات اور مسیحا ہونے کے خواب فروخت کیے جاتے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں کسی فرد کی نجات دہندہ یا مسیحا ہونے کی دعویٰ اُس کے زوال کا پہلا قدم بن جاتی ہے۔
حکمران صرف طاقت سے نہیں بلکہ عوام کے عام فکر کو قابو کر کے بھی حکومت کرتے ہیں۔ جہاں عوام فکری طور پر کمزور ہوں، وہاں نظریات زیادہ آسانی سے فروخت ہو جاتے ہیں۔ اور جہاں مادی غربت کے ساتھ فلسفیانہ افلاس بھی ہو، وہاں بیانیہ حقیقت کی جگہ لے لیتا ہے نظریہ ضرورت پیدا ہوتے رہتے ہیں
کارل مارکس نے ایشیائی طرز پیداوار پر تبصرا کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسے معاشروں میں پیداوار آج بھی قدیم انسانی رواج کے مطابق صرف اور صرف حکمران کے لیے ہی کی جاتی ہے، اور معیشت اور ہنر اور اس کی اجرت کا دھارا حکمران کے گرد گھومتا ہے۔ برصغیر پاک و ہند کے ریاستی ساخت میں یہ جزوی طور پر آج بھی درست ہے ، لیکن یہاں ایک اور حقیقت بھی موجود ہے جسے مارکس پوری طرح نہیں سمجھ سکا۔ برصغیر میں پیداوار کا معیار انسانی صلاحیت یا ہنر سے نہیں بلکہ ذات، نسب، اور پیدائش سے طے ہوتا رہا ہے اور آج بھی کسی حد تک ہو رہا ہے ۔ محنت معیشت کا مرکز نہیں بلکہ شناخت معیشت کا حوالہ بنتی رہی، اور ہنر کی حکمرانی کے بجائے ذات کی حکمرانی غالب رہی۔ آج بھی برصغیر پاک و ہند میں سیاست میں موروثیت کا یہ اثر برقرار ہے اور اس پہلو کی طرف نشاندھی کرتا ہے
یہ وہ حقیقت تھی جس کے خلاف ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے جدوجہد کی۔ ان کا مقدمہ صرف سیاسی یا آئینی نہیں بلکہ پیداوار اور سماجی انصاف کا بھی تھا۔ ان کے مطابق انسان کی افادیت اس کی قابلیت اور محنت کے بجائے اس کی پیدائش سے طے ہو، تو وہ نظام صرف استحصالی نہیں بلکہ غیر انسانی بھی بن جاتا ہے۔ امبیڈکر نے ذات پر مبنی پیداواری جبر کے خلاف آواز اٹھائی تاکہ انسان کو اس کی صلاحیت، محنت اور شعور کے مطابق مقام ملے، نہ کہ خاندان یا نسب کے مطابق۔
اسلامی ملکوں میں حکمران اکثر اقتدار کو جائز ثابت کرنے کے لیے مذہبی دلائل پیش کرتے ہیں اور اکثریت میں کوئی جمہوری اور احتسابی نظام نفاذ نہیں ہے ، اور یہ وہی حربہ ہے جسے گرامشی نے فکری غلبے کی حکمت عملی قرار دیا۔ یہاں مذہب روحانی سرچشمہ کم اور سیاسی جواز زیادہ بنتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ عوام کی بیداری کمزور اور اشرافیہ اقتدار و دولت کے پیچھے زیادہ لگن میں مبتلا نظر آتی ہے، اور نظریات عوامی شعور کے لیے نہیں بلکہ اقتدار کی بقا کے لیے عارضی بیانیے بن جاتے ہیں۔
پاکستان جیسے معاشروں میں، جہاں ادارے کمزور ہوں، اشخاص کو اداروں پر فوقیت دی جائے، اور معیشت صلاحیت کے بجائے شناخت کی نفسیات پر جکڑی ہو، وہاں فکری مفلسی اور داخلی اقتداری جبر سب سے بڑا خطرہ ہے۔ لنکن نے کہا تھا کہ کوئی بیرونی دشمن قوم کو نقصان نہیں پہنچا سکتا اگر وہ قوم اندر سے خود کو نہ گرائے۔
انسانی آزادی اور اجتماعی بقا کی ضمانت نہ تقدیس میں ہے، نہ شخصی نجات میں، نہ فرد واحد کی حکمرانی میں ‘ نہ نسبی فوقیت میں، اور نہ وقتی نظریاتی نعروں اور نظریہ ضرورت میں ہے ۔ یہ صرف اداروں کی مضبوطی، ہنر کی حکمرانی، شعور کی بیداری، طاقت کے توازن اور حکمرانوں کے احتساب اور ان سے سوال میں پنہاں ہے۔
ویا گرامشی دار سینہ ‘ جینوا اطالیہ